شریعت جناب رسالت مآب ۖکے لائے ہوئے احکام خداوندی کا نام ہے اور جولوگ احکام خداوندی کو بصدق دل قبول کرکے ان پر عمل پیرا ہو جائیں وہ مسلمان کہلاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کئے ہوئے احکام غالب ہونے کیلئے آئے ہیں مغلوب ہونے کیلئے نہیں آئے، ان احکام کو قبول کرکے ان پر عمل پیرا ہونے والے مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے احکام کو غالب کرنے کیلئے تمام تر وسائل وذرائع بروئے کارلائیں جو انہیں میسرہیں،چنانچہ اس میں کسی قسم کی کوتاہی اور تساہل ہلاکت کے گڑھے میں گرنے کے مترادف ہے ۔جب مسلمان اپنے تمام تر وسائل وذرائع کے ذریعے اللہ کے دین کو غالب کرنے پر کمربستہ ہوجائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے۔ اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر غالب کرنے کی یہ فکراور اس فکر کیلئے شریعت کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق جدوجہد اور پھر اس جدوجہد کے ذریعہ اسلامی قانون کو مملکت میں نافذ کرکے مسلم عوام کو اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا ماحول فراہم کرنااور اقلیتوں کو تحفظ دینا یہ سیاست شرعیہ کہلاتاہے۔
جس زمین ،جس مملکت وریاست میں اسلامی قوانین نافذ ہوتے ہیں وہاں انسان اللہ کا غلام ہوتا ہے، شرک درحقیقت غیر اللہ کی غلامی کا نام ہے اس میں انسان فکری اور نظریاتی غلام ہوتا ہے، جبکہ شرک کے نظام میں مفاد پرست طبقہ چند تصورات اور تخیلات کی آڑ میں سادہ لوح عوام کو مذہبی اور سیاسی اعتبار سے اپنا غلام بنا لیتا ہے،پھر انکا سماجی اور معاشی استحصال کرتا ہے۔ تمام ا نبیاء کرام علیہ السلام کی دعوتِ توحید درحقیقت انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلاکر صرف خالق کا بندہ بنانے کی کوشش تھی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی کشمکش کا ذکر بکثرت فرمایا ہے،جس کے بارے میں علامہ اقبال نے خوب کہا ہے کہ:
عبرت اے مسلم روشن ضمیر ازمآلِ امت ِموسیٰ بگیر
دیگر فوائد کے علاوہ اس قصے کا عظیم مقصد فلسفہ آزادی کی تفہیم اور جذبۂ آزادی کا احیاء وابقاء ہے ۔جیسا کہ سورة قصص کے آغاز میں ارشاد ہے کہ فرعون نے عوام کو تقسیم درتقسیم کرکے کمزور کردیا تھا اسطرح ان کے سروں پر سوار ہوبیٹھا تھا ،پورے ملک میں فساد برپا تھا، صلاح وفلاح کی کوئی صورت دکھائی نہ دے رہی تھی ، عقلیں ماؤف اور صلاحیتیں مفلوج ہو چکی تھیں، لیکن مایوسی کے اس عالم میں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ کمزور عوام پر احسان کرے، بے وقعتی سے نکال کر امامت وقیادت کا تاج ان کے سروں پر رکھیں اور حکومت واقتدار عطا فرمائیں، قرآن مجید کی تصریح سے واضح طور پر سمجھ آگیا کہ آزادی اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور جب صاحبِ اقتدار طبقہ منہ زور ہوجائے، دین اسلام کی اشاعت میں رکاوٹیں پیدا کرے، اللہ کے دئیے ہوئے آئین سے انحراف وبغاوت کرکے مخلوق کے بنائے ہوئے آئین میںمن مانی کرکے خود غرضانہ ترامیم کرے، آئین کا حلیہ بگاڑ دے۔ مذہبی ،سیاسی قائدین اور دانشور طبقے بلکہ پوری قوم کی چیخ وپکار،صدائے احتجاج( ایجی ٹیشن) کو درخود اعتنا نہ سمجھے ،اس کے ظلم وبربریت سے رعایا کی چیخیں نکل جائیں، حق گو لوگوں کی زبان بندی کی جائے ،دین کے علمبردار لوگوں کے مقابلے میں یہودونصاریٰ کا ساتھ دیا جائے یہود ونصاریٰ کیساتھ مل کر حق پرست لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگین کئے جائیں، مسلمانوں پر مظالم کے دروازے کھول دئیے جائیں، دین اسلام کے نام لیواؤں اور علمبرداروں کی کردار کشی کیجائے، انکے خلاف گندی اور غلیظ زبان استعمال کی جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی تکوین وتدبیر سے اسے گراتا ہے اور کمزوروں کو اٹھاتا ہے۔ دین اسلام کا مقصد ہی یہی ہے کہ انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے آزاد کیاجائے۔
غیر اللہ کی غلامی مذہبی ہو یا سیاسی سماجی ہو یا معاشی، اسلام ان سب زنجیروں کو توڑ کر انسان کو دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ چنانچہ جب انسان فرعونی زنجیروں میں گرفتار ہوا تو اللہ تعالیٰ نے رسالت کی صورت میں اپنی تدبیر بروئے کارلائے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ: ”ہم تیرے رب کے رسول ہیں سو نبی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں مت ستا”(سورةطٰہ)
معلوم ہوا کہ جہاد، حریت ورسالت کے فرائض میںداخل ہے اور اپنی قوم کو غلامی سے چھڑانے کی کوشش پیغمبروں کا ترکہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مطالبۂ آزادی کے جواب میں فرعون نے کہا : ” ہم نے تجھے اپنے ہاں بچہ سانہیں پا لا تھا ؟ اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے اور اپنا کام کرگیا جو کر گیا اور تو احسان فراموش ہے” ( سورةشعرائ) اس سے فرعونی ذہنیت یوںبے نقاب ہوتی ہے کہ ذاتی احسان کا بدلہ قومی غلامی کی صورت میں چاہتا ہے اور یہ احسان بھی نیک نیتی سے نہیں تھا بلکہ اپنے مفادات کے تحت کیا تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی اس بات کے جواب میں فرمایا:” احسان جو تو مجھ پر جتلا رہا ہے اسکی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھاتھا(سورة شعرائ)” آج کل کے فرعون بھی غریب ممالک کو امداد کے عنوان سے سودی قرض دیتے ہیں اور پھر اپنی پالیسی ماننے پر مجبور کرتے ہیں، چند افراد کو نوازتے ہیں اور اسکے بدلے پوری قوم کو غلام بنالیتے ہیں ۔ اس تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ آزادی کیلئے جدوجہد کرنا غلیظ اور ناپاک مغربی سیاست کی آواز نہیں ہے بلکہ دینی اور شرعی سیاست کی آواز ہے۔
اٹھ !کہ گھوم رہے ہیں خزاں کے ہر کارے
چمن بچاؤ! غمِ آشیاںکا وقت نہیں
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اپنی خوداری ، وضع، مسلک کی پابندی اور عالمانہ شان کے نباہنے میں کمال رکھتے تھے، کبھی بھی اس سلسلہ میں ان کے قدموں میں جنبش پیدا نہیں ہوئی۔ نہ چھوٹوں کی محبت سے زندگی کے اس اصول میں میں فرق آنے دیا، نہ بڑوں کی عظمت نے متاثر کیا، ہمیشہ اُسی راہ پر گامزن رہے، جومتعین فرما چکے تھے۔ ایک مرتبہ کسی کام سے بہت سے علمائے کرام کو نواب بہاولپورنے مدعو کیا، اس جماعت میں حضرت تھانوی بھی شامل تھے۔ جب وہاں سے واپسی ہونے لگی تولکھا ہے کہ نواب صاحب کی جانب سے سب حضرات کو ڈیڑھ ڈیڑھ سو روپے بطور خلعت اور پچیس پچیس روپے بنام دعوت عطا کئے گئے۔ اس وقت تو حضرت نے احترام نواب کے خیال سے سب کیساتھ یہ رقم لے لی،لیکن خلوت میں وزیر متعلقہ سے فرمایا: ”یہ رقم مجھ سے واپس لے لی جائے کیونکہ یہ بیت المال میںسے دی گئی ہے،جس کا میں مصر ف نہیں”( سیرت اشرف ص144)
غور کیجئے جو بات کہنی تھی ،کتنی صفائی سے فرمائی۔ شریعت کے باب میں نہ نواب صاحب کی پرواہ کی، نہ وزیر صاحب سے مرعوب ہوئے۔نہ حیلہ ،نہ بہانہ بلکہ مسئلہ کی جو صورت تھی وہی سامنے رکھ کردی۔ آج کل کا کوئی شخص سنے گا تو اسے حیرانی ہوگی۔ مگر حکیم الامت کی شان وہی تھی جس کا آپ اظہار فرمایا۔ غلط عذر سے بات کمزور ہو تی ہے، مضبوط نہیںہوتی ۔پھر نہ روپے کی محبت کے آگے جھکے ، نہ نواب صاحب کی نوابی کے آگے ۔ وزیر صاحب نے حضرت والا سے عرض بھی کیا:” چونکہ اس رقم کا کاغذات سرکاری میں اندراج ہوچکاہے، اسلئے اب اسکی واپسی کی کوئی صورت نہیں ہے” وزیر صاحب سوچ رہے ہونگے کہ اب مولانا مجبور ہو کر قبول فرمالیں گے مگر ایسا نہیں ہوا فوراً اسی وقت فرمایا گیا:” خیر اگر خزانہ میں واپسی نہیں ہو سکتی تو اس رقم کو مقامی علماء اور طلباء میں صرف کردیا جائے کیونکہ شرعاً بیت المال کے مصرف کے وہ قریب ہیں” اور اسی پر بس نہیں کی بلکہ جو کچھ حضرت والا کو ملا تھا، وہ آپ نے سب کا سب واپس فرمادیا ، لیکن نہایت سلیقہ سے اور طریقہ سے (حکیم الامت کے حیرت انگیز واقعات)
دیکھا آپ نے حضرتِ والا کا اندازِ بیان، اپنی بات منوانے اور صحیح مسئلہ پر عمل کرنے کا طریقہ… اسے کہتے ہیں شریعت پر عمل… کاش یہ جذبہ آج عام ہوتا اور دنیا یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوتی کہ علماء کا مقام کس قدر بلند ہے۔
اسی طرح کا واقعہ ریاست خیرپور سندھ میں بھی پیش آیا، وہاںبھی خلعت ملی تھی، آپ نے وہاں بھی انکار فرمایا، اور جب کہا گیاکہ نواب صاحب کوناگوار خاطر ہوگا تو حضرت نے برجستہ فرمایا: اگریہ اندیشہ ہے تو ان کو معلوم ہی کیوں کرایا جائے بلکہ جو نقدبعنوان خلعت ملا ہے اسکو مساکین میں تقسیم کردیا جائے کیونکہ وہ اسکے صحیح مصرف ہیں” (بحوالہ سیرت اشرف)
اس طرح کے بیسیوں مواقع پیش آئے مگر کہیں بھی آپ نے مصلحت کے نام پر کسی غلط چیز کو قبول نہیں فرمایا۔ خود فرمایا کرتے تھے:” الحمد للہ ! مجھے کسی جگہ خلاف ِشریعت یا خلافِ طبیعت کرنے پرمجبور نہیں ہونا پڑتا (حکیم الامت کے حیرت انگیز واقعات)” بلکہ جہاں جاتے پہلے طے کروالیتے تھے کہ مجھے کسی قسم کا ہدیہ نہیں دیا جائے، جب تک یہ شرط قبول نہیں کرلی جاتی آپ تشریف نہیں لے جاتے تھے۔
حضرت تھانوی ہر اس چیز سے پرہیز کرتے، جس سے کسی طرح بھی اخلاقی دباؤ کا اندیشہ ہوتا ۔ ایک دفعہ کسی رئیس نواب نے مدرسہ خانقاہ کیلئے دو سو روپیہ کی رقم بھیجی اور ساتھ ہی تشریف آوری کی دعوت دی۔ آپ نے اس روپے کو اس وقت واپس فرمادیا اور نواب صاحب کو لکھا اگر رقم کے ساتھ بلانے کی درخواست نہ ہوتی تو مدرسہ کیلئے روپیہ لے لیا جاتا ، اب اس اقتران سے شبہ ہوتا ہے کہ شاید مجھ کو متاثر کرنے کیلئے یہ رقم بھیجی گئی ہو، آپ کی یہ غرض نہ سہی، لیکن میرے اوپر تو طبعی طور پر اس کا یہی اثر ہوگا”( حکیم الامت کے حیرت انگیز واقعات ٣٧٢)
ہمارے اس دور میں اب ان چھوٹی چھوٹی باتوں کس کو لحاظ ہے مگر سوچئے تو معلوم ہوگا کہ ایک عالم کیلئے یہ اصول ِزندگی کس قدر ضروری ہے۔اس احتیاط کے عام طور پر نہ ہونے کی وجہ سے اہل دنیا نے علماء کے متعلق ایک غلط رائے قائم کرلی ہے اور نئے تعلیم یافتہ حضرات خواہ مخواہ علماء پر نکتہ چینی کرتے ہیں حالانکہ علماء عموماً خوددار ہوتے ہیں۔یہ الگ چیز ہے کہ اپنی سادگی کی وجہ سے سب میں دوربینی نمایاں نہ ہوتی ہو۔ گو ضرورت ہے کہ زمانے کے تقاضے سے مجبور ہو کر ہی سہی اس طرح کی احتیاط ضروری برتی جائے تاکہ عوام میں علماء کا وقار قائم ہوسکے۔
ایک اور دفعہ مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کیلئے ایک رئیسہ نے ایک دارالطلبہ تیار کرایا ،جب وہ تیار ہوگیا تو اس نے مہتمم کو لکھا کہ فلاں تاریخ کو افتتاحی جلسہ کیا جائے اور اس میں اراکین اور سرپرست مدرسہ کو اطلاع دی جائے کہ جلسہ میں تاریخ متعینہ پر مدرسہ آجائیں۔ مہتمم مدرسہ نے اس اطلاع کیساتھ حضرت تھانوی کو شرکت کی دعوت دی ۔ آپمدرسہ کے سرپرست تھے مگر آپ نے شرکت سے انکار فرما دیا اور لکھا: ”ان کو اس حاکمانہ لہجہ میں بلانے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس طرح حکمنامہ بھیج کر بلانا خلاف تہذیب ہے، یہ بھی بلانے کا کوئی طریقہ ہے؟ میں نہیں آؤ نگا، کیا وہ کسی رئیس کو ا پنے طریقے سے دعوت دے سکتی تھیں” (سیرت اشرف ص ١٤٦)
خیال کیجئے کہ حضرت تھانوی کو علماء کے وقار کا کس قدر پاس تھا اور یہی ہونا بھی چاہئے۔ جب سے عام طور پر ہمیں اپنی برتری اور خودداری کا احساس باقی نہ رہا، ہم اپنے مقام سے ہٹتے گئے۔خاکسار، حقیر ،فقیر اور لا شیٔ اپنے ناموں کیساتھ لکھنے کا یہ منشاء ہر گز نہیں ہے کہ ایک شخص ایک عالم کو نائبِ رسول بھی سمجھے اور اس کیساتھ برتاؤ بیکاروں جیسا کرے اور ہم پر اسکا اثر نہ ہو۔ ہمارا فریضہ ہے کہ اسے اپنے علم وعمل سے اپنا مقام ذہن نشین کرانے کی مسلسل سعی کریں بالخصوص سرمایہ داروں کے آگے جھکنا، حرص وآز میں مبتلا ہونا ، اور عالمانہ وقار کیخلاف کوئی قدم اٹھانا سب سے بڑا گناہ ہے۔ خوب اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ علماء کے وقار کے انحطاط کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ دین کا وقار بھی گھٹنا چلا جاتا ہے جس کا عوام کو احساس نہیں ہوتا، اور نہ عام علمائے کرام کو ۔
حضرت تھانوی غضب کے ذہن اور بلا کے ذکی تھے۔ ایک دفعہ آپ ایک جگہ تشریف لے گئے تو اس گاؤں کے چوہدری نے چندہ کرکے دو سو روپے نذرانے کے پیش کئے حضرت کو اسکی مالی حالت کو دیکھ کر شبہ ہوا۔ چنانچہ دریافت فرمایا : ” یہ صرف آپ کی طرف سے ہے یا اور لوگ بھی اس میں شامل ہیں؟” جواب دیا گیا کہ:” دوسرے لو گ بھی اسمیں شریک ہیں” آپ نے واپس کرتے ہوئے فرمایا :”ہدیہ محبت کیلئے ہوتا ہے ،جب دینے والے کو میں نہیں جانتا تو محبت کیسے ہوگی؟ ہر ایک کو اس کی رقم واپس کردو،پھر جس کو دینا ہوگا ہر ا یک خود آکر اپنے ہاتھ سے دیگا، جس سے مجھے پتہ چلے گا کہ یہ میرا محسن ہے ، اور مجھے اس سے محبت ہے” (حکیم الامة کے حیرت انگیز واقعات ٣٧٤)
ا سے کہتے ہیں عالمانہ سوجھ بوجھ …مسئلہ کی نوعیت بھی کھل گئی ، ظلم وزیادتی کا قلع قمع بھی ہوگیا اور اس عذاب سے بچ گئے جو نازل ہونے والا تھا،اسلئے کہ پھر چوہدری جی نے ہدیہ پیش نہیں کیا ۔ عوام کی نظر میں عام علماء کی اس بے توجہی کا ہی نتیجہ ہے کہ ان حضرات کا اصل مقام باقی نہیں رہا ۔کاش! اب بھی ان کا احساس خودداری جاگ اٹھے۔
حضرت تھانوی کی خودداری کا یہ عالم تھا کہ جب مدرسی کے زمانہ میں فیض عام مدرسہ کانپور کے منتظمین نے آپ سے التجاء کی کہ آپ اپنے وعظ میں چندہ کی تحریک بھی فرما دیا کریں تو آپ نے صاف انکار کردیا،بلکہ اسے غیرتِ دینی کیخلاف سمجھا کہ مدرس درس ِین بھی دے، وعظ بھی کرے اور اپنی تنخواہ کیلئے چندہ بھی جمع کرے ۔اس لئے ایسا کرنے سے آپ نے صاف انکار کردیا (سیرت اشرف ص ٨)
واقعہ بھی یہی ہے کہ مدرس کے ذمہ اس طرح کے کام لگانا اور قبول کرنا دونوں ہی مذموم ہیں۔ اور کوئی شبہ نہیں اس طریقہ کار سے علماء کاعلمی وقار ختم ہوجاتا ہے اور ایک حساس کو طبعاًیہی کرنا چاہئے جو حضرت والا نے کیا ۔قوم کو کون سمجھائے کہ مصلحین امت کے فرائض کتنے اہم اورنازک ہیں اور ان فرائض کی پوری پوری ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کیلئے کیا شرائط ہیں۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے ہمارے ان علماء کو جو اس راستہ پر گامزن ہیں کہ وہ مدرسہ کیلئے چندہ کی اپیل نہیں کرنے اور کرتے ہیں تو دین کی عظمت اور اپنے شخصی قار کو باقی کھ کر۔ آپ کو یہ معلوم ہوکر حیرت ہوگی کہ حضرت تھانوی کے اس انکار سے جب ارباب مدرسہ میں چہ مگیوئیاں ہونے لگیں، اور بات آگے بڑھی ، تو آپ کو سخت ناگوار گزری اور انہیں استعفیٰ دے دیا۔بعد میں انہوں نے معذرت کی لیکن حضرت نے اس بنا پر کہ یہ ناقدرے لوگ معلوم ہوتے ہیں، ان سے میرا نبھاہ مشکل ہوگا، وہاںرہنا منظور نہ فرمایا (سیرت اشرف ٨٤)
یہ ہے دینی غیرت وحمیت اور اللہ تعالیٰ پر اور خود اپنی زات پر صحیح اعتماد…یہ کیونکر یقین دلایا جائے کہ علماء لوگ خود اپنے کو گراتے جارہے ہیں، اسلئے گرتے جارہے ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان شاء اللہ درجات میں ترقی ہوتی، تنزلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر اپنے آپ پر اعتماد جیسا چاہئے یہ تو پیدا کرلیا جائے پھر اس کے ثمرات خود بخود آنے شروع ہوں گے۔ منشا یہ ہر گز نہیں کہ چندہ کی اپیل کوئی ناجائز چیز ہے ، عرض یہ کرنا ہے کہ ہر کام میں اپنے عالمانہ وقار کا پاس رکھنا بہت ضروری ہے کوئی کام اگر ضروری ہے تو یقینا کرے، مگر اس طرح نہیں کہ اپنا دینی وقار مجروح ہو اور عوام کو چہ میگوئیوں کا موقع ملے۔
یوں تو حضرت تھانوی درشت خو اور سخت مزاج مشہور کردیئے گئے تھے ، مگر حقیقت حال یہ نہیں تھی۔ آپ ایک خوددار باوضع اور ایک بااصول انسان تھے۔ سب کچھ برداشت کرلیتے مگر اپنی غیرت وخودداری کا خون ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے، خود فرمایا کرتے تھے:”میری عادت نہیں کہ خود کسی معاملہ میں دخل دوں، میرے اوپر غیرت کا غلبہ زیادہ ہے، اسلئے خود کسی معاملہ میں دخل دینے کو جی نہیں چاہتا، یہ خیال ہوتا ہے کہ میرا تو کام نہیں، میں کیوں دخل دوں؟ کسی کو لاکھ دفعہ غرض پڑے، اپنی اصلاح کا طریقہ دریافت کرے۔ ہاں! اگر کسی وقت شفقت کا غلبہ ہوتا ہے تو میں خود بھی نرمی سے کہہ دیتا ہوں (حکیم الامت کے حیرت انگیز واقعات٣٨٤) ”
غورکریں …یہ کتنا عمدہ اصول تھا۔ جب کوئی خود اپنی خامی محسوس کرے ،کسی کے پاس مشورہ کیلئے آئے، اس وقت جتنی بات موثر ہوسکتی ہے ،بذات خود بن بلائے بولنے سے نہیں ہوتی۔ یہ الگ بات ہے کہ انسان پر کبھی بہی خواہی کا جذبہ غالب آجائے، تو کہہ دے۔ گوتجربہ یہی ہے کہ یہ طریقہ کچھ زیادہ کامیاب نہیں ۔جو لوگ خواہ مخواہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے رہتے ہیں ، ان کو سوچنا چاہئے کہ یہ طریقہ اچھاہے یا باعزت بن کر زندگی گزارنا ۔



تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔