January 8, 2026 13 0

مفکر اسلام مولانا مفتی محمود َ رحمہ اللہ کاتاریخی ...

مفکر اسلام مولانا مفتی محمود َ رحمہ اللہ کاتاریخی خطاب(ملک عبد العزیز یونیورسٹی جدہ )

یہ بھی پڑھیں

پاکستان قومی اتحاد کے صدر اور جمعیت علماء اسلام کے اوالعزم قائدمفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ نے١٩٧٩ء میں سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کا نہایت کامیاب دورہ فرمایا۔ اس دورہ میں ہر جگہ آپ کو وہاں علماء مشائخ مدارس دینی وتعلیمی مراکز اور عام مسلمانوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا، شاندار استقبالئے دئیے گئے اور اہم مقامات پر حضرت مفتی صاحب نے پاکستان کے حالات بالخصوص اسلامی قوانین کی طرف پیش رفت پر عالمانہ خطاب بھی فرمایا۔اس دوران ٢٦ اپریل کو ملک عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کے یونیورسٹی ہال میں بھی حضرت مفتی صاحب نے خطاب فرمایا۔قارئین الجمعیة کے افادے کیلئے مذکورہ خطاب نذر قارئین ہے ۔

(عبدالقدیرواسطی جامعہ انوار العلوم گلبرگ کراچی)

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ،اما بعد …

 جناب صدر محترم، معززدوستو اور بھائیو!

اللہ تعالیٰ نے آج اس ارض مقدس میں آپ حضرات کی ملاقات نصیب فرمائی۔یقینا میرے لئے آپ کی ملاقات باعث مسرت ہے، اس وقت پاکستان کے مسلمانوں نے عظیم قربانیوں کے بعد اسلامی قانون کا آغاز فرمادیا ہے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس نظام کو تکمیل تک پہنچا دے ۔ آمین

اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر ارشاد فرمایا:

”اے میرے پیغمبر! تیرے رب کی قسم ،کہ یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپ کو تمام اختلافات میں اپنا حَکَم اور ثالث نہ تسلیم کرلیں، اور صرف یہ نہیں کہ آپ کوحَکَم تسلیم کرلیں بلکہ ان کے دل میں کسی قسم کی پریشانی، استعراض، زیغ اور تنگی محسوس نہ ہو اور آپ کے فیصلہ کو تسلیم کریں، اگر یہ کیفیت ہے تو مسلمان ہے اور اگر یہ کیفیت نہیں تو رب کی قسم یہ مسلمان نہیں ”

 اگر ہم اس قرآنی حساب کی روشنی میںاپنے حالات کو دیکھیں کہ پاکستان میں مسلمانوں کی پوزیشن کیا ہے اور کیا تھی تو حقیقت یہ ہے کہ ہم مومن ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ انگریز نے اسلامی نظام جو وہاں پر(برصغیر میں) تقریباً آٹھ سو سال سے نافذ تھا اسے درہم برہم کردیا اور انگریز کی غلامی کے دور میں انگریز کی یہ کوشش رہی کہ مسلمان کا تعلق اسلام سے منقطع ہو جائے ۔ چنانچہ اس وقت سے لے کر ہم اسلامی نظام کی رہنمائی سے محروم ہو کر چلے آرہے ہیں ۔ ہم نے تمام نزاعات فوجداری قسم کے ہوں یا دیوانی قسم کے ،ان سب میں جناب نبی کریمۖ کو اپنا حکم تسلیم نہیں کیا ،بلکہ انگریز کے قانون سے نزاعات طے کرائے اور پھر ہم مطمئن تھے۔ یہاں تک کہ دو سو برسوں تک ہمارا یہ عمل جاری تھا ۔تو پھر بتائیں کہ ہم کس طرح مومن کہلانے کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ میں بہر حال ان لوگوں کو ضرو ر مستثنیٰ کرلوں گا جنہوں نے انگریز کیخلاف بریں نیت کہ انگریز کے چلے جانے کے بعد پھر یہاں پر اسلام کا نافذ ہوگا، آزادی کی جنگ لڑی اور قربانیاں دیں،میںان لوگوں کو میں ضرور یہ حق دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا عذر پیش کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد جب پاکستان بنا تو پاکستان اس مقصد کیلئے بنا تھا کہ ہم اپنی زندگی میں اسلام کو عملاً نافذ کردیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے بن جانے کے بعد تیس یا اکتیس برس گزرے اور ہم وہ مقصد حاصل نہ کرسکے جس مقصد کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا۔ اور اس کی وجہ کیا تھی…؟ یہ ایک بہت تلخ داستان ہے۔

 پاکستان بن جانے کے بعد حکمران طبقے کے لوگوں کی ایک معمولی سی اقلیت نے جسے پاکستان میں سیاسی اثر ورسوخ حاصل تھا اور وہ پاکستان پر سیاسی طورپر مسلط ہو چکے تھے، ان کی زندگیاں اسلام سے بہت دور تھیںاور وہ اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق بنانے پر قادر نہ تھے ۔ انہوں نے یہ کوشش کی کہ اسلام کے نام کو استعمال کرلیاجائے، سیاسی اغرا ض کیلئے ، عملاً اسلام کا کوئی وجود نہ ہو،تا کہ ان کی زندگیاں اسلام سے متاثر نہ ہوں۔

عوام کی بات تو یہ تھی کہ جب بھی ہم کسی اجتماع سے خطاب کرتے تھے تو وہ سب بآواز بلند اسلامی نظام کے قیام کا مطالبہ بھی کرتے تھے اور آواز بھی اٹھاتے تھے۔ لیکن ان کے پاس سیاسی قوت نہیں تھی، وہ اس خواہش کو فی الحقیقت عمل میں لانے پر قادر نہیں تھے۔ تو جو لوگ دل سے اسلامی نظام لانے کے خواہشمند تھے لیکن وہ اپنے ضعف کی وجہ سے اس کو نافذ کرنے پر قادر نہ تھے تو ان کو بھی اللہ کے سامنے اپنے عذرکو پیش کرنے کا تھوڑا سا حق ملتا ہے۔

 میرے محترم دوستو! اصل بات یہ ہے کہ خواہش کتنی سچی کیوں نہ ہو، خواہش کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مدد نہیں آتی، جب تک اس خواہش کے پیچھے عملی قوت نہ ہو۔ ایک شخص مثلاً زمیندار ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ میرے کھیت میں بہت زیادہ غلہ پیدا ہو اور پیداوار فی ایکڑ بڑھے، لیکن وہ زمین میں محنت نہیں کرتا، پانی نہیں دیتا، نہ وقت پر تخم ڈالتا ہے ، نہ رکھوالی کرتا ہے ، خواہ اس کی خواہش کتنی بھی شدید کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کی پیداوارمیں اضافہ نہیں کرتا ہے۔ اگر چہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ بغیر تخم ڈالے بھی زمین سے پیداوار دے سکتا ہے ۔قدرت کا تو کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت اور عادت یہ ہے کہ محنت کا پھل ملتا ہے۔ چونکہ ہمارے اس مطالبے کے پیچھے قوت نہیں تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس مطالبے کو پورا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کی عادت تبدیل نہیں ہوتی۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:ولن تجد لسنة اللّٰہ تبدیلاً۔

اور جب ١٩٧٧ء میں ملک گیر تحریک اٹھی ،تو لوگوں نے قربانیاں دیں خون کے نذرانے پیش کئے اور رو رو کر خدا کے سامنے اپنے آنسو بہائے۔ جیل خانوں کو آباد کیا، کاروباری لوگوں نے بازاروں کوبند کیا، کروڑوں کے نقصان کو برداشت کیا اور تحریک کو کامیاب بنایا۔ قربانیاں دینے کے بعد جلد اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو کامیاب کردیا۔

میں سمجھتا ہوں کہ دنیا بھر کے اسلامی ملکوں میں اسلامی نظام قانون تقریباً بہت سے ملکوں میں ہے ۔دیوانی مقدمات کی حد تک میں نے جہاں تک دیکھا ہے ۔ مراکش میں تیونس میں الجزائر میں لیبیا میں، مصرمیں، عراق اور شام میں تمام عرب ممالک میں اور آپ انڈونیشیا، ملائشیا تک چلے جائیں اسلامی نظام بحیثیت دیوانی قانون کے نافذ ہے۔ لیکن حدود کی سزائیں مملکت سعودیہ کے سوا کہیں بھی نافذ نہیں ہیں۔پاکستان میں تو انگریز نے اسلامی نظام کو مکمل درہم برہم کردیا تھا ۔ نہ دیوانی مقدمات میں، نہ فوجداری مقدمات میں اسلامی نظام تھا۔ لیکن جن ملکوں میں دیوانی مقدمات کی حد تک اسلامی قانون نافذ تھا وہاں بھی حدود شرعیہ نافذ نہیں ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اس میں وہ مرعوب تھے۔ کفر کی ملعون طاقتوں سے مرعوب تھے ۔ان میں احساس کمتری نمایاں تھا۔ اور سعودی عرب کے سوا تمام اسلامی ممالک یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے چور کی سزا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا، نافذ کردیا تو برطانیہ کیا کہے گا کہ اس مہذب دور میں بیسویں صدی کے آخر میں ہاتھ کاٹنے کی سزا؟ یہ تو پرانے زمانے کی بات ہے۔ اور چودہ سو سال قبل یہ ان غیرمہذب قسم کے لوگوں کیلئے وحشی دور کا قانون تھانعوذ باللہ… مہذب دور میں ہاتھ کاٹنے کی سزا؟ برطانیہ کے لوگ کیا کہیں گے۔ اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے زنا پر زانی کے سنگسار ہونے کی سزا کا اعلان کردیا تو امریکہ ہنسے گا۔ اور شراب پینے پر اسے کوڑوں کی سزا نافذ کردی تو روس ہنسے گا، اور اگر ہم نے ڈاکو کے ہاتھ اور پاؤں دونوں کاٹنے کی سزا نافذ کردی تو ہم پر چین ہنسے گا۔ دنیائے کفر کی ملعونیات پر وہ اسلامی نظام کو نافذ کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔

میرے محترم دوستو! پاکستان میں وہ قدم جو تمام اسلامی ممالک نہیں اٹھا سکے وہ آخری اورمشکل قسم سب سے پہلے اٹھایا گیا ہے ۔ آج وہاں پر زانی کی سزا قانون کے مطابق اگر وہ شادی شدہ نہیں تو اس کی سزا قرآن کے مطابق سو کوڑے ہے۔ اور اگر کسی پر زنا کی تہمت بغیر ثبوت کے کسی نے لگائی تو اس کی اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔ جس طرح ارشادباری ہے: والذین یرمون المحصنٰت …(الآیہ)

اورفرمایاکہ: مدت العمر تک اس کی گواہی قبول مت کرو۔

اسی طرح ڈاکو کی سزا بھی قرآن میں ہے ۔ ارشاد ہے انما جزآء الذین یحاربون…(الآیہ)

قرآن نے چار سز ائیں بتائی ہیں ان کیلئے، جو کہ زمین میں فساد کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولۖ کے امن کو خراب کرتے ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ ڈاکہ اگر ڈالدیا اور کسی کو قتل بھی کردیا اور مال ہاتھ نہ آیا۔ دوسری صورت یہ کہ قتل بھی کیااور مال بھی چھین لیا۔ تیسری صورت یہ کہ حملہ بھی ناکام ہوگیا۔

تو پہلے کی سزا یہ ہے کہ ان یقتلوا اس کو قتل کردو قصاصاً ۔ دوسری صورت میں ان یصلبوا قتل بھی کردو اور لاش بھی لٹکا دو تاکہ عبرت کا نشان بنے۔

تیسری صورت میںاوتقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف کا حکم ہے ،کہ اس کا دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹ دو۔ اس کی سزا چور سے سخت ہے کیونکہ چور آپ کی غیر موجودگی میں چوری کرتا ہے اور یہ تو زبردستی ڈاکہ ڈالتا ہے۔ اور من خلاف کا حکم دیا تاکہ توازن قائم ہوسکے، چور اور ڈاکو کے درمیان میں۔

چوتھی صورت میںاوینفوا من الارضاس کو ملک بدر کردو۔ یا عمر بھر کیلئے قید کردو ،تاکہ معاشرے میں دوبارہ واپس نہ آسکے۔ معاشرے سے اس کو نکال دو۔

 تو غرض یہ کہ آج ہم کو دنیائے کفر سے مرعوب نہیں ہونا چاہئے بلکہ ڈٹ کر ایمانی قوت کیساتھ اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ ہم کہتے ہیں کہ لندن جو دنیا میں ایک بڑامرکز سمجھا جاتا ہے یعنی فن کا مرکز ،علم کا مرکز،ثقافت کا مرکز سمجھا جاتا ہے اور وہاں پر ایک کروڑ کے قریب انسان بستے ہیں۔ لیکن آپ کو کیا بتاؤں کہ دنیا میں سب سے زیادہ چوریاں، بدمعاشیاں، بے حیائی لندن میں ہوتی ہے۔ اب چوری کی سزا ہر جگہ پر ہے خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی۔ چوری قانوناً لندن میں بھی جائز نہیں ہے لیکن ایک شخص وہاں چوری کرتا ہے، مثلاً ایک لاکھ پاؤنڈ چوری کئے جوکہ تقریباً بیس لاکھ روپے بنتے ہیں لیکن وہ اس کی سزا میں جیل میں صر ف چھ ماہ قید ہوتا ہے اور چھ ماہ میں روٹی کپڑا اورمکان جیل والوں کے ذمہ ہے ۔ وہ خود اس سے فارغ ہے ۔ چھ ماہ قید میںگزارنے کے بعد جب گھر آتا ہے تو اور سزا میں بھی تخفیف ہو جاتی ہے۔ مثلاً سزا بھی چار ماہ میں ہوجائے تو وہ تو کہے گا کہ میں نے چار ماہ آرام سے گزارے اور بیس لاکھ روپے بھی کما لئے ہیں، یہ سودا بڑے فائدے کا سودا ہے ، خسارے کا سودا نہیں ۔تو پھر وہ لازماً ایک دوسری چوری کی تیاری کرے گا۔

تو غیر اسلامی سزائیں تو جرائم کی تربیت کا ذریعہ ہیں، نہ کہ ختم کرنے کا۔ اصل میں سزا اس لئے ہے کہ اس میں حکمت ہے انسداد جرم کی۔ تو اسلامی سزاؤں میں انسداد جرم ہے اور اللہ کے فضل وکرم سے میں باہر سے یہاں پر حج یا عمرہ کرنے کیلئے آتا ہوں تو یہاں پر رہتے ہوئے میں کبھی کسی کا ہاتھ کٹا ہوا نہیں دیکھتا۔ اور پاکستان میں لوگ کہتے ہیں ”یہاں پر اگر لوگوں کے ہاتھ کٹنے لگ گئے تو مزدور پھر کہاں سے لائیں گے اور کارخانوں میں کام کون کرے گا اور پاکستان ٹنڈوں کا ملک بن جائے گا؟ لیکن اس شخص کا ہاتھ ضرور کاٹنا چاہئے جس کا ہاتھ اتنا لمبا ہو جائے کہ دوسرے مسلمان کے گھر تک پہنچ جائے۔ اس کا ہاتھ کاٹا جائے تو توازن قائم ہوگا۔ اور میں نے سعودیہ میں کبھی ٹنڈوں کی جماعت نہیں دیکھی ۔ اور نہ حرم میں کوئی ٹنڈا دیکھا۔ حالانکہ وہاں پر لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے اور عملاً بھی یہاں پر دکاندار دکان کھلی چھوڑ کر نماز پڑھنے جاتے ہیں، کاریں رات کو بازاروں میں گلیوں میں کھڑی کردیتے ہیں، کسی مکان میں گیراج بھی نہیںہے۔ پاکستان مین تو مکان بنتا نہیں جب تک اس میں گیراج نہ ہو۔ اب حج میں یہاں پر کتنا رش ہوتا ہے۔ لیکن لوگ دکانوں کے سامنے کپڑے باندھ کر چلے جاتے ہیں تو یہ سب اسلامی قانون کا نتیجہ ہے۔ اور ہم آج یہ بات فخر سے کہتے ہیں کہ اگر آج سعودیہ میں ایک نوجوان عورت زیورات سے لدی ہوئی ہو اور سعودیہ کے ایک کنارے سے چلتی ہے دوسرے کنارے تک اور صحراؤں میں شہروں میں چلتی ہے لیکن اس پر کوئی ہاتھ ڈالنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا۔ ییہ سب اسلامی قانون کا نتیجہ ہے اب اس وقت ساری دنیا میں سعودیہ واحد ملک ہے جرائم کی کمی کے لحاظ سے اور یہ اسلامی قانون نافذ ہونے کی وجہ سے ہے۔ اب ہم اور کچھ نہیں تو کم از کم اتنا تو دوسرے آدمی کو کہہ سکتے ہیں کہ بھائی ہمارے ملک میں تو اتنے مقدمہ درج ہوئے اور آپ کے ملک میں کتنے ہوئے۔ تو جرائم کا سدباب سزاؤں میں سختی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کسی کو زبردستی سزا دی جائے۔

جناب نبی کریم ۖ کے عہدمبارک میں مدینہ طیبہ میں دس سال میں صرف ایک ہاتھ کٹا ۔وہ ایک عور ت تھی بنو مخزوم کے قبیلہ کی اور قریش کے خاندان کی ایک معزز عورت تھی، اس نے چوری کی، چوری ثابت ہوئی تو آپ ۖ نے فرمایا کہ” اس کے ہاتھ کاٹ دو” اور یہ اسلام میںپہلا واقعہ تھا۔ تو صحابہ کرام کو معلوم نہیں تھا کہ حدود میں سفارش نہیں چلتی اور اللہ کے پیغمبر ۖ کو بھی اللہ کی حدود کو رد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ چنانچہ بنو مخزوم کے قبیلہ کے لوگوں نے اکٹھے ہو کر حضرت اسامہ بن زید کو حضور ۖ کے پاس سفارش کیلئے بھیجا اوراسامہ حضورۖ کے بہت بڑے مقربین میں سے تھے اور زید بن حارث کے بیٹے تھے جن کو لوگ زید بن محمد کہتے تھے، اتنا قرب تھا ان کا حضور ۖ سے ۔ لیکن جب انہوں نے سفارش کی تو حضور ۖ غصہ ہوئے اور فرمایا : اے اسامہ! تو اللہ کی حدود میں سفارش کرتا ہے؟ قسم ہے اس رب کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹتا۔

اور یہ ایک واقعہ ہے ، اس طرح اسلام کسی زانی کو زبردستی سنگسار نہیں کرنا چاہتا، اور حضور ۖ نے فرمایا کہ جتنی تمہاری طاقت ہو تو حدود کو دفع کرو اور ختم کرتے جاؤ۔ حضورۖ کے عہد میں صر ف دو سنگسار کے کیس آئے۔ ایک حضرت معاذ اور ایک غامدیہ کی ایک عورت کا واقعہ ہے ۔ اور یہ دونوں انپے اقرار سے ہوئے، گواہوں سے نہیں۔ اور زنا کا کیس آج تک چودہ سال سے اسلامی ادوار میں گواہوں سے ثابت نہیں ہوا۔ یہ ناممکن ہے ، چار گواہ کیسے مل سکتے ہیں؟ اور نکاح کے ثبوت کیلئے شریعت جتنے گواہ مانگتی اتنے مل سکتے ہیں۔ نکاح کی تقریب میں شرکت کرنے والے گواہ بن جائیں گے۔ لیکن زنا کیلئے چارہ گواہ مقرر کردئیے تاکہ جرم کا ثبوت سخت ہو اور سزا کے نفاذ سے فائدہ بھی پہنچے ۔تو غامدیہ عورت نے خود حضورۖ کے سامنے اقرار کیا ، آپ ۖ نے ٹالا ۔لیکن وہ نہیں ٹلی ،حضور ۖ نے فرمایا کہ تیرے پیٹ میں بچہ ہے؟ تو کہا کہ: ہاں بچہ ہے۔ تو حضور ۖ نے فرمایا کہ یہ بچہ سنگسار ی سے مر جائے گا۔جاؤ !جب یہ بچہ پیدا ہو جائے تو اس کے بعد تم کو سنگسار کریں گے۔ جاؤ! گھربیٹھ جاؤ۔ حضور ۖ نے اس کو قید نہیں کیا، اس کو تھانے نہیں بھیجا بلکہ فرمایا :جاؤ !گھر بیٹھ جاؤ جب بچہ ہوا تو بچہ کو کپڑے میں لپیٹ کر پھر حضور ۖ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ یہ میرا بچہ ہے ۔ خود موت کیلئے آرہی ہے ۔ لیکن صداقت کا زمانہ ہے، اس پر گناہوں کا جوبوجھ تھا وہ اس بوجھ کے ساتھ اللہ کے ہاں نہیں جانا چاہتی تھی ۔ آپ ۖ نے فرمایا : اس کو دودھ کون پلائے گا۔ جاؤ! جب تک یہ کچھ کھاتا نہیں اور صرف دودھ پیتا ہے تو اس کو دودھ پلاؤ ۔ اس عورت نے چھ ماہ میں اپنے بچے کو روٹی کا عادی بنادیا۔

اندازہ لگائیں کہ بچہ چھ ماہ میں کچھ نہیں جانتا اور اس نے اس کو روٹی کا عادی بنادیا۔ موت کا پتہ بھی ہے اور کتنی جلدی کرتی ہے۔ اور آج کل ہمارے ہاں تو عدالت اگر کسی کو سزائے موت دے تو وہ معاف بھی ہو سکتی ہے ۔ تو پھر حضور ۖ نے فرمایا: اس کا باپ تو نہیں، اس کا کفیل کون ہوگا؟ ایک صحابی نے کہا اس کا کفیل میں بنتا ہوں۔اس عورت نے انپے ہنستے کھیلتے چھ ماہ کے بچے کو کفیل کے حوالے کردیا اور خود سنگسار ہونے کیلئے کھڑی ہوگئی۔ اور جب سنگسار ہوئی تو حضور ۖ نے فرمایا: ”اس کی تو بہ اتنی بھاری تھی کہ اگر اس کو سارے مدینہ والوں میں تقسیم کردیا جائے تو تب بھی کم نہ ہو۔ ”

یہ حضور ۖ نے اس کو تمغہ عطا فرمایا اور مجھے پاکستان میں اسلامی قانون کو ناکام ہونے کا خطرہ بہت محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ وہاں پر عدالتوں میں جھوٹ بہت زیادہ ہے۔ گواہ جھوٹا، وکیل جھوٹا، پولیس افسر جھوٹا۔ اور یہ کیوں ہے کہ اگر جھوٹ نہ بولو تو مقدمہ کوئی جیت بھی نہیں سکتا۔ اور ہم سچ کیوں بولیں یہاں قانون بھی سچا نہیں۔ گواہ جھوٹا، مدعوی جھوٹا، مدعی علیہ جھوٹا، اور پولیس افسر بددیانت اور رشوت خور ہیں ۔تو بتاؤ کہ کس طرح وہاں پر اسلامی قانون کامیاب ہوگا۔ آپ لوگ اس دیار مقدسہ میں رہتے ہیں کم از کم اللہ تعالیٰ سے دعا تو کریں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ایسی مملکت بنائے جو ساری دنیا کیلئے ایک نمونہ ہو۔وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

تبصرے

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں

error: Content is protected !!